اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے پرواز کے واقعے پر تفصیلی بات کی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق نیتن یاہو سے ہونے والی گفتگو میں پرواز کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مسافروں کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے سے متعلق تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ طیارے میں موجود ایک اسرائیلی مسافر، جو پیشے کے اعتبار سے پلمبر ہے، نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر کو پائلٹ کو قابو کرنے اور طیارے کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا، اس شخص نے اس سے پہلے کبھی طیارہ نہیں اڑایا تھا، تاہم ہنگامی صورتحال میں اس نے کاک پٹ تک پہنچ کر طیارے کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد کی۔

امریکی صدر نے مزید بتایا کہ طیارے میں موجود دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس اور عملے کے ارکان بھی بعد میں کاک پٹ تک پہنچے، جس کے بعد انہوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے محفوظ مقام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ وہ ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ معلومات ہیں جو انہیں نیتن یاہو اور دیگر افراد سے موصول ہوئی ہیں، اس لیے انہیں معلوم نہیں کہ واقعے کی ہر تفصیل درست ہے یا نہیں۔

واقعے سے متعلق دستیاب اطلاعات کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی جب دورانِ پرواز کاک پٹ میں ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے آیا اور مسافروں و عملے نے مداخلت کرکے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔

رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ تک انتہائی تیزی سے نیچے آیا، تاہم مسافروں اور عملے کی مداخلت کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ طیارے میں مجموعی طور پر 174 افراد سوار تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واقعے کو سنگین سیکیورٹی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام نے مبینہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کو پائلٹ کے ممکنہ دہشتگرد ہونے کا ذکر کیا، تاہم واقعے کا محرک ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس کے مطابق طیارے کے کپتان بھارتی شہری سمیت دونوں پائلٹس زخمی ہوئے، جبکہ زخمی کپتان کو سعودی عرب کے تبوک میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ بھارتی حکام کے مطابق کپتان کی حالت مستحکم ہے۔

پرواز میں موجود مسافروں نے بھی واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال اچانک انتہائی سنگین ہوگئی تھی۔ مسافروں اور عملے کی بروقت مداخلت کے نتیجے میں مبینہ حملہ آور کو قابو کیا گیا اور اضافی پائلٹس نے طیارے کو محفوظ طریقے سے لینڈ کرایا۔

دوسری جانب فلائی دبئی نے واقعے کی مکمل وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل کی ہے۔ ایئرلائن کے مطابق کاک پٹ میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد پرواز کا رخ تبدیل کرکے اسے بحفاظت سعودی عرب میں اتارا گیا، تاہم واقعے کے بنیادی محرکات ابھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔

واقعے کے بعد اسرائیلی حکام نے اسرائیل آنے والی پروازوں کے پائلٹس کی سیکیورٹی جانچ مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پائلٹس کی شناخت اور سیکیورٹی سے متعلق اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا، اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ رابطے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

فلائی دبئی پرواز کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مبینہ حملے کے محرکات، کو پائلٹ کے اقدام کی وجہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ فی الحال امریکی صدر کی جانب سے کو پائلٹ کو ممکنہ دہشتگرد قرار دینے کی بات بھی حتمی تحقیقاتی نتیجے کے بجائے ان تک پہنچنے والی معلومات کے طور پر سامنے آئی ہے۔