عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ لاہور، گجرات اور راولپنڈی میں رواں سیزن کے دوران تاریخ کی شدید ترین بارشیں ہوئیں، تاہم راولپنڈی میں انتظامیہ نے دنوں میں نہیں بلکہ صرف چند گھنٹوں میں بارش کا پانی کلیئر کیا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ بارش کے دوران کون سی حکومت متحرک ہوتی ہے اور کون سی حکومت بارش کا پانی دیکھ کر غائب ہو جاتی ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ کراچی ہر سال بارشوں کے موسم میں ڈوب جاتا ہے، لیکن 17 سال سے حکومت کرنے والے اب بھی نہیں جاگتے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پورے پنجاب میں واسا کا نظام قائم کیا اور ایک ہزار نئی مشینری فراہم کی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں ہر بارش کے دوران اس نظام کے نتائج میڈیا کے سامنے آتے ہیں۔ پنجاب میں سندھ کی طرح بارش رکنے یا پانی خود خشک ہونے کا انتظار نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس واسا نظام سے سیکھا جاتا ہے، اسی کے خلاف باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو کوسنے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ 17 سال گزرنے کے باوجود اپنی نااہلی دوسروں پر ڈالنے کی عادت ختم نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے راولپنڈی میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ایک مشکل اور انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور راولپنڈی میں ہونے والی تباہ کن بارشوں سے متاثرہ تمام افراد کے لیے دعائیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے دعا گو ہیں اور ایسی آفات کو کبھی سیاست کی نذر نہیں کیا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن نے قومی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ میڈیا راولپنڈی میں ہونے والی تباہی کے پیمانے کو نظر انداز کرتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ ماضی میں کراچی میں چند گھنٹوں کی بارش کو بھی بڑے پیمانے پر کوریج دی جاتی رہی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ بارشوں سے متاثر ہونے والا ہر شخص توجہ، ہمدردی اور تعاون کا حق دار ہے۔







