کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) آج عالمی معیار کی علاج گاہ بن چکا ہے، جہاں دل کے امراض کا مکمل طور پر مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبوں کو مالی وسائل منتقل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبوں کو فنڈز دینے کو غلطی قرار دیا جاتا ہے تو ناقدین سندھ میں قائم جدید اسپتالوں کا دورہ کرکے خود فیصلہ کرلیں۔ وسائل کی منتقلی سے قبل وفاقی انتظام میں چلنے والے اداروں کی حالت سب کے سامنے تھی، بالخصوص جناح اسپتال جو آج بھی خصوصی توجہ کا محتاج ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سندھ حکومت نے صحت سمیت مختلف شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی کا ملک بھر میں پھیلتا ہوا نیٹ ورک صوبائی حکومت کے وژن اور مؤثر حکمتِ عملی کی واضح مثال ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ برس ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں مریض این آئی سی وی ڈی کراچی میں علاج کے لیے آئے، جن میں آزاد کشمیر سے 716، بلوچستان سے 84 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان سے 855، خیبرپختونخوا سے 16 ہزار سے زائد، جب کہ پنجاب سے 35 ہزار سے زائد مریض شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں گورنر راج لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ حکومت کرے گی، باربار کہہ رہے ہیں ہمیں اپنی سیاست سے دور رکھو: ترجمان پاک فوج
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے منشور کے مطابق سندھ کے عوام کو گھر کی دہلیز پر بہترین اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ این آئی سی وی ڈی دنیا کا سب سے بڑا فری کارڈیک ٹریٹمنٹ نیٹ ورک بن چکا ہے، جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ صوبوں کو مالی وسائل دینا غلطی نہیں بلکہ آئینی حق ہے اور پیپلزپارٹی اس حق کو استعمال کرتے ہوئے صحت کے جدید ترین ماڈلز قائم کر رہی ہے۔ تنقید کرنے والے سندھ کے اسپتالوں کا دورہ کرکے خود فرق محسوس کریں۔







