مستقل ثالثی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کی یکطرفہ معطلی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پاکستان کا مؤقف ہے کہ انڈیا کی جانب سے پانی کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق انڈیا کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد آبی تعاون سے متعلق بعض اقدامات پر نظرثانی اور ڈیٹا شیئرنگ میں تاخیر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان میں سیلابی صورتحال کی پیشگی وارننگ سسٹم متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی درست پیشگوئی مشکل ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر زرعی علاقوں اور نشیبی آبادیوں پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے انڈین وزیر داخلہ کی جانب سے پانی سے متعلق دیے گئے مبینہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “آبی دہشت گردی” سے تعبیر کیا ہے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
حالیہ بارشوں اور دریائی پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے باعث پاکستان کے متعدد زرعی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، خاص طور پر دریائے چناب کے کنارے آباد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق ان کے مویشی، فصلیں اور گھریلو سامان سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں زمین پر ریت اور مٹی کی تہہ بیٹھنے سے زراعت کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی 80 فیصد سے زائد زراعت دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتی ہے، لہٰذا آبی وسائل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست ملک کی معیشت، خوراک اور آبادی کی بقا کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک
پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ پانی کو سیاسی یا عسکری دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پانی پر تنازعات کا حل جنگ یا دباؤ نہیں بلکہ شفاف ڈیٹا شیئرنگ، تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہے، تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم رہے۔
واضح رہے کہ یہ مسئلہ اب صرف دوطرفہ تنازع نہیں رہا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی آبی سلامتی، ماحولیاتی توازن اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور آبادی میں اضافے کے باعث پانی کے وسائل پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔
فرانسیسی جریدے "لی موند" نے بھی اپنی رپورٹ میں پاکستانی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی صورتحال کو اجاگر کیا ہے، جس میں متاثرہ افراد کی مشکلات اور ریاستی چیلنجز کو نمایاں کیا گیا ہے۔







