ڈی پی او سوات عمر گنڈاپور نے بتایا کہ کبل تھانے کے گیٹ کے قریب دھماکا ہوا، جس میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 9 افراد شہید ہوئے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ دھماکا کبل پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب ہوا۔ دھماکے کے وقت مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا، تاہم احتجاج کا مقام دھماکے کی جگہ سے کچھ فاصلے پر تھا۔
سوات دھماکہ خودکش تھا، اب تک 7 افراد شہید اور 18 زخمی ہوئے، ڈی پی او pic.twitter.com/PPqtW0gg7J
— Kamran Ali (@akamran111) August 2, 2026
انہوں نے بتایا کہ خودکش بمبار نے تھانہ کبل میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس اہلکار نے اسے اندر جانے سے روک دیا، جس پر خودکش حملہ آور نے تھانے کے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تھانے کے قریب پولیس لائن اور دیگر حساس عمارتیں واقع ہیں۔ ابتدائی طور پر چار پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ واقعے میں دو شہری بھی زخمی ہوئے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے کہا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر موقع پر روانہ کر دی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 9 افراد شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 15 سے زائد زخمیوں کو ریسکیو 1122 نے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔ اس وقت بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں کو کبل اور سیدو شریف اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سوات کبل دھماکے میں7افراد شہید جبکہ 18 شدید زخمی ہیں https://t.co/UbqyMT3u5X
— Jadeed Gul (@jadeedgul7) August 2, 2026
سوات دھماکے پر اظہارِ مذمت
سوات میں کبل تھانے کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر رہنماؤں نے شدید مذمت کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تھانہ کبل کے قریب خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔
انہوں نے کہا کہ بہادر پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا اور دوسروں کی زندگیاں بچاتے ہوئے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی اور شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے والے امن دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں اور افواجِ پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے، جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنے بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب ہوں گے۔
گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی کبل میں خودکش دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید ہونے والے پولیس اے ایس آئی سمیت تمام شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد اور مکمل صحت یابی نصیب کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ انتظامیہ اور اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام زخمیوں کو بروقت، بہترین اور بلا تاخیر طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔






