اتوار کو جدہ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے او آئی سی اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا غیر متنازع اور اٹوٹ حصہ ہے اور کوئی ریاست یا ادارہ قانونی یا اخلاقی طور پر اس حقیقت کو تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کو صومالیہ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ سمجھا جاتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ایک بنیادی اصول ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ریاست کے لازمی حصے کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے، جو ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے اور ہورن آف افریقہ، بحر احمر کے خطے اور مجموعی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کے حصوں کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی اور عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کی واضح اور سخت مخالفت ضروری ہے تاکہ یہ ہٹ دھرمی کسی دوسرے ملک کے لیے مثال نہ بن سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہورن آف افریقہ میں حالیہ تشویشناک صورتحال اس وقت زیادہ پریشان کن ہے جب صومالیہ سیاسی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں قابل ذکر پیش رفت کر رہا ہے اور قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی مضبوطی میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

اسحاق ڈار نے صومالی عوام اور ان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے الشباب اور اس سے منسلک گروہوں کی خطرناک سرگرمیوں کو ناکام بنایا ہے، جبکہ اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے مسلسل تعاون ناگزیر ہے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو توجہ ہٹائے، یکجہتی کو کمزور کرے یا اختلافات کو ہوا دے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ واضح موقف اختیار کریں اور ان تمام اقدامات کی بھرپور مخالفت کریں جو صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا یہ اجلاس مشترکہ یکجہتی کا مظہر ہے جو صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے خلاف مضبوط موقف پیش کرتا ہے اور پاکستان صومالیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔