آنر 25 نامی بحری جہاز پر یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ، جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل تھے، کیماڑی میں قائم نیٹی جیٹی پل پر جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اب تک نہ کوئی مؤثر اقدام کیا گیا ہے اور نہ ہی اہل خانہ سے کسی قسم کا رابطہ کیا گیا۔

بحری جہاز پر یرغمال بنائے گئے سید یوسف حسین کے بھانجے طالب رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے، کیونکہ اب تک ریاستی سطح پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کبھی پریس کانفرنس اور کبھی احتجاج کے ذریعے اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کی اپیل کر رہے ہیں، مگر حکومت ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں۔

طالب رضا نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دے اور ایک فوکل پرسن مقرر کرے جو متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں رہے، انہیں صورتحال سے آگاہ کرے اور ریاست کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو متاثرہ خاندانوں کے بچے بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صومالی قزاقوں نے سماجی رہنما انصار برنی سے رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ وہ صرف حکومتی نمائندے سے بات چیت کریں گے۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکنِ اسمبلی معاذ محبوب نے یرغمال پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے قرارداد جمع کرا دی ہے، جب کہ سابق رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل سے بھی اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔