عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کے بعد کمی دیکھنے میں آرہی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور خریداروں نے قدرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات براہِ راست مقامی صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قدر میں 32 ڈالر فی اونس کمی کے بعد نئی قیمت 5010 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3200 روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 23 ہزار 762 روپے کا ہو گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2743 روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 49 ہزار 41 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی، تاہم اب عالمی مارکیٹ میں معمولی استحکام کے بعد قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی سطح پر بھی مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے عالمی سیاسی اور معاشی کشیدگی کے دوران اس کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم جیسے ہی حالات میں بہتری آتی ہے تو سرمایہ کار منافع لینے کے لیے فروخت شروع کر دیتے ہیں جس سے قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی کے باوجود سونے کی قیمتیں اب بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن کے پیشِ نظر خریداروں کو اب بھی مہنگے داموں سونا خریدنا پڑ رہا ہے۔

بازار ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں عالمی مارکیٹ کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی قیمتوں میں مزید ردوبدل متوقع ہے، جس پر سرمایہ کاروں اور خریداروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔