وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منعقد ہونے والی پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس کے دوران مختلف معاملات پرتبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا ہوا۔
شہباز شریف کے مطابق مذاکرات کے دوران فریقین نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ پیش رفت کی نگرانی اور مختلف امور پر رابطے برقرار رکھنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، جہاں ماہرین مختلف تجاویز اور معاہدوں کے عملی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے تاکہ آئندہ پیش رفت کو مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کی قیادت کو تعمیری رویہ اختیار کرنے اور مذاکراتی عمل سے وابستگی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرکے مثبت مثال قائم کی ہے۔
وزیراعظم نے ان تمام دوست اور برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر تعاون فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
شہباز شریف نے خصوصی طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا، قطر کی سفارتی کاوشیں اس عمل کی کامیابی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم نے سوئس حکومت کی میزبانی اور سہولت کاری کو بھی سراہا اور کہا کہ سوئٹزرلینڈ نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے بہترین انتظامات فراہم کیے، جس کے باعث فریقین کو مثبت ماحول میں گفتگو کا موقع ملا۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں، عزم اور رہنمائی نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم کے مطابق مختلف سطحوں پر ہونے والی کوششوں نے اس پیش رفت کو ممکن بنایا۔
شہباز شریف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزارت خارجہ کی ٹیم کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا، پاکستانی سفارت کاروں نے مذاکراتی عمل میں مؤثر اور فعال کردار ادا کیا، جس سے پاکستان کی مثبت سفارتی شناخت مزید مضبوط ہوئی۔
انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف انتظامی اور رابطہ کاری کے امور میں ان کی کوششیں قابل قدر رہیں۔
مزید پڑھیں: مذاکراتی عمل کی مکمل کامیابی تک اپنی سپورٹ، شراکت داری قائم رکھیں گے: قطری وزیراعظم
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصول پر یقین رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تنازعات کے حل اور عالمی امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ برگن سٹاک مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں وسیع تر سفارتی تعاون کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اس عمل کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔







