چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے حکومت کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ مقدمات سے متعلق قانونی امور پر مشاورت کی جا سکے۔ اس درخواست پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات سے متعلق درخواست پر بھی کل سماعت کے دوران فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی اہم پیش رفت کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے ہدایت جاری کی کہ ان اپیلوں کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دیا جائے۔
اسی طرح سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے لیے بھی علیحدہ تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے آج کے احکامات بانی پی ٹی آئی سے متعلق جاری عدالتی کارروائیوں میں اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ سماعتوں میں ان مقدمات کی سمت واضح ہونے کا امکان ہے۔ تمام فریقین کی نظریں کل ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں۔