واضح رہے کہ سہراب برکت کے خلاف مقدمہ ان کے ایک انٹرویو کے دوران ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔

نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے، انہوں نے درخواستِ ضمانت کی سماعت کی۔ یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے 21 جنوری کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں سہراب برکت کی سابقہ ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

درخواست ایڈووکیٹ سعد رسول نے سہراب برکت کی جانب سے دائر کی تھی، جو اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ محمد شفقت عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ برکت پر عائد الزامات میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ عدالت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی ضمانت دے چکی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے۔

جسٹس افغان نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پیکا قانون کا اطلاق ان افراد کے خلاف کیا جا رہا ہے جو کسی خصوصی ادارے پر تنقید کرتے ہیں، جب کہ عدلیہ اور اس کے ججوں کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز ریمارکس دینے والوں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آتی۔

اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام شہریوں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔

عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ سہراب برکت کو بری نہیں کیا جا رہا اور حکومت قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ مقدمہ اس وقت کس مرحلے میں ہے۔ اس پر برکت کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ صنم جاوید، جن کا ان کے موکل نے انٹرویو کیا تھا، انہیں تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

انہوں نے مزید کہا کہ چالان پیش کیے جانے کے باوجود انہیں اس تک مکمل رسائی نہیں دی گئی، نہ ہی کوئی باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی اور نہ ٹرائل کا آغاز ہوا ہے۔

سہراب برکت کے خلاف مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی شکایت پر درج کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ریاست میں عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے اور ریاستی عہدیداروں کو بدنام کرنے میں کردار ادا کیا۔

شکایت کنندہ کے مطابق صنم جاوید کے ساتھ کیے گئے انٹرویو میں ریاستی اداروں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس شامل تھے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سہراب برکت کی گرفتاری ہائی کورٹ کے سابقہ احکامات کی صریح خلاف ورزی تھی۔ درخواست میں استغاثہ پر بد نیتی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ہراساں کرنے کے تسلسل کا حصہ قرار دیا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ این سی سی آئی اے/ایف آئی اے نے کبھی بھی درخواست گزار کو ایف آئی آر کی موجودگی سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی ایف آئی آر میں ان سے کوئی مخصوص غیر قانونی عمل یا بیان منسوب کیا گیا۔

مؤقف اختیار کیا گیا کہ انٹرویو لینے والے کو انٹرویو دینے والے کے خیالات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ یہ دعویٰ بھی مسترد کیا گیا کہ برکت siasat.pk کے مالک ہیں، جہاں مذکورہ انٹرویو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کرنا قانونی طور پر غیر پائیدار اور حقائق و قانون کی غلط تشریح پر مبنی تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ صحافی کی مسلسل نظربندی قبل از سماعت سزا اور انصاف کے منافی ہے۔