پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم ارسلان کے علاوہ ایک دکاندار حنیف، اس کا بیٹا اور دیگر مشتبہ افراد شامل ہیں۔ واقعے کا مقدمہ گزشتہ روز مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر کیس کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں جبکہ مرکزی ملزم کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ مقتولہ کے والد اور دکان کے مالک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ پولیس نے اس زاویے کو بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے۔

حکام کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جس میں بچی کو ایک دکان کے اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم وہ بعد میں باہر آتی نظر نہیں آتی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ فوٹیج اور دیگر شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

دوسری جانب مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ طبی ذرائع کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں مزید 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے بعد موت کی وجوہات اور واقعے کی نوعیت سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مقتولہ منتہا کو گزشتہ روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر علاقے میں افسوس اور غم کی فضا رہی جبکہ اہل خانہ نے ملزمان کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔