پنجاب کے ضلع سرگودھا میں انسانیت شرما گئی، درندگی اور خوف کی ایسی داستان رقم ہوئی جس نے سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ سرگودھا کے علاقے جھال چکیاں میں اوباش ملزمان نے بدفعلی کا راز فاش ہونے پر 14 سالہ نوجوان کو بیدردی سے زندہ مٹی میں دبا دیا۔ تاہم، قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، لڑکا معجزانہ طور پر موت کے منہ سے واپس آ گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو بیڑیاں پہنا دیں جبکہ تیسرے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب جھال چکیاں کے ایک سنسان علاقے سے گزرنے والے راہگیر کی نظر اچانک مٹی سے باہر نکلے ہوئے ایک انسانی ہاتھ پر پڑی۔ ہاتھ ہلتا دیکھ کر راہگیر کے ہوش اڑ گئے اور اس نے فوراً شور مچایا۔
آواز سن کر مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی اور انہوں نے مدد کے جذبے کے تحت فوری طور پر مٹی کھودنا شروع کر دی۔ مٹی ہٹائی گئی تو اندر سے 14 سالہ لڑکا نیم بے ہوشی اور تشویشناک حالت میں برآمد ہوا، جسے فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
ڈی پی او سرگودھا شعیب اشرف نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے افسوسناک انکشاف کیا کہ
"متاثرہ لڑکے کو تقریباً 20 روز قبل جھال چکیاں کے ہی علاقے میں تین درندہ صفت ملزمان نے مبینہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور اسے دھمکی دی تھی کہ اگر زبان کھولی تو جان سے مار دیا جائے گا۔"
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، معصوم لڑکے نے خوف کے باوجود اپنے گھر والوں کو آپ بیتی سنا دی اور ملزمان کے نام بھی اگل دیے۔ جب ملزمان کو پتہ چلا کہ ان کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے اور پولیس ان تک پہنچ سکتی ہے، تو انہوں نے خوفناک منصوبہ تیار کیا۔ ملزمان نے جمعہ کے روز لڑکے کو اغوا کیا اور اسے ایک ویران جگہ لے جا کر زندہ دفن کر دیا تاکہ نہ کوئی گواہ رہے اور نہ ہی کوئی ثبوت۔
ڈی پی او شعیب اشرف کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں دھر لیا۔ ملزمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں حوالات منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تیسرے مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکے کی حالت سنبھلتے ہی اس کا باقاعدہ بیان ریکارڈ کیا جائے گا تاکہ قانون کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: سرگودھا میں 8 سالہ بچی کے قتل کا مقدمہ، مرکزی ملزم سمیت 6 افراد گرفتار
واضح رہے کہ سرگودھا میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی سرگودھا میں ایک 7 سالہ معصوم بچی کو اغوا کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا، جس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔
بدھ کے روز سرگودھا پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ بچی کے قتل کا مرکزی ملزم، جو پولیس حراست سے فرار ہو گیا تھا، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے سرگودھا میں بڑھتے ہوئے ان لرزہ خیز واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے درندوں کو سرِعام عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی معصوم ان کی ہوس کا شکار نہ بن سکے۔







