ذرائع کے مطابق رواں سال بھی عازمین کو طویل اور مختصر دورانیے کے حج پیکجز میں سے انتخاب کا موقع دیا جائے گا، تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں حج اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق سرکاری حج اسکیم کے تحت تقریباً ایک لاکھ 7 ہزار 832 پاکستانی عازمین فریضۂ حج ادا کریں گے، جبکہ نجی حج اسکیم کے لیے مختص 40 فیصد کوٹے کے تحت 71 ہزار 888 عازمین کو حج کی اجازت دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عازمین سے حج اخراجات دو اقساط میں وصول کیے جانے کا امکان ہے تاکہ انہیں یکمشت ادائیگی کے مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔

متوقع تخمینوں کے مطابق طویل دورانیے کے حج پیکج کی لاگت تقریباً 12 لاکھ روپے جبکہ مختصر دورانیے کے حج پیکج کی لاگت تقریباً 13 لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔

سرکاری اسکیم کے تحت عازمین اپنی سہولت اور قیام کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل یا مختصر دورانیے کا پیکج منتخب کر سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی سرکاری حج اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے حج واجبات ادا کرنے کے اہل ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں صرف پہلے سے رجسٹرڈ افراد ہی اپنی حج درخواستیں مکمل کر سکیں گے اور مقررہ شیڈول کے مطابق واجبات جمع کرائیں گے۔

وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے حج پالیسی، درخواستوں کی تاریخ، نامزد بینکوں کی فہرست، ادائیگی کے طریقہ کار اور دیگر اہم تفصیلات کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔