یہ اتفاق بیجنگ میں منعقدہ چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کے دوران ہوا، جس کی مشترکہ صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری 2026 تک چین کا دورہ کیا، جس دوران دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، کان کنی، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلوں سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
علاقائی اور عالمی امور، بالخصوص جنوبی ایشیا، افغانستان، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ اور عالمی حکمرانی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک نے 2026 میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا، جن کا مقصد آہنی دوستی کو مزید مضبوط بنانا اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
At the invitation of Chinese Foreign Minister Wang Yi, DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 visited Beijing to co-chair the 7th Round of the Pakistan–China Foreign Ministers’ Strategic Dialogue.
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) January 4, 2026
The two sides reviewed the entire spectrum of Pakistan–China relations and… pic.twitter.com/G2GeJ9Kxye
اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر غیرمتزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔
پاکستان نے ایک چین پالیسی سے غیرمشروط وابستگی دہراتے ہوئے تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی بھرپور تائید کی۔
دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے، چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو محفوظ ماحول میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا۔
سی پیک کے تحت صنعت، زراعت اور کان کنی کو ترجیحی شعبے قرار دیتے ہوئے گوادر بندرگاہ کی ترقی، قراقرم ہائی وے کی بلا تعطل بحالی، خنجراب پاس کی سال بھر آمد و رفت اور تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔ سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک میں آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے خلائی تعاون، بینکاری و مالیاتی شعبے، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تکنیکی تربیت میں شراکت داری بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
اعلامیے میں مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ غزہ میں فوری، مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
افغانستان سے متعلق دونوں ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے مکمل خاتمے اور ایک جامع سیاسی نظام کے قیام پر زور دیا۔
دونوں فریقین نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور بالادستی و بلاک سیاست کی مخالفت کے عزم کا اظہار کیا۔ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے 2026-27 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت پر بھی پاکستان کو مبارکباد دی۔
اعلامیے کے مطابق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔







