اپنے بیان میں فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ریاست میں انتشار پھیلانے والے عناصر کو اصل تکلیف کس بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جتھے اور سوشل میڈیا ٹرولز آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی میں ملوث عناصر طالبان اور خارجیوں کے حامی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات کے گواہ ہیں اور ایک غیر سیاسی و غیر پارلیمانی گروپ نے متعدد کوششوں کے باوجود مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کیا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اور وہ ریاست پر دھاوا بولنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم بلیک میلنگ کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

فیصل ممتاز راٹھور نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر انسانی، سیاسی اور سماجی مراعات کے لحاظ سے پاکستان کے چاروں صوبوں سے کہیں آگے ہے۔ ان کے بقول بجلی اور آٹے کی کم قیمتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا، جب کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔