سینیٹر پلوشہ خان نے اجلاس میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا؟ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا ان کا آئینی اور پارلیمانی حق تھا۔

پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جب انہوں نے اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کروایا اور سوال پوچھا تو وفاقی وزیر علیم خان برہم ہو گئے۔ وزیر موصوف کو یہ بات ناگوار گزری کہ سوال کیوں کیا گیا، جب کہ وہ خود کو ایماندار قرار دے رہے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ جیسے ہمیں ٹریٹ کیا جائے گا ہم بھی ویسا ہی جواب دیں گے۔ اگر کوئی ذاتیات پر جائے گا تو ہم بھی جواب دیں گے، لیکن ہم اس سطح پر نہیں گرنا چاہتے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور ایوان میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی حلقوں میں اس واقعے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جب کہ سینیٹ اجلاس کی کارروائی ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا شکار ہو گئی۔