سینیٹر پلوشہ خان نے اجلاس میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا؟ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا ان کا آئینی اور پارلیمانی حق تھا۔
پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جب انہوں نے اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کروایا اور سوال پوچھا تو وفاقی وزیر علیم خان برہم ہو گئے۔ وزیر موصوف کو یہ بات ناگوار گزری کہ سوال کیوں کیا گیا، جب کہ وہ خود کو ایماندار قرار دے رہے تھے۔
نجی ہاوسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا میرا حق تھا،وہ ایجنڈے میں معاملہ شامل کروایا تو اس پر وفاقی وزی علیم خان کو جواب دینا پڑا تو وہ بھڑک اٹھے،وزیر موصوف کو برا لگا کہ یہ کیوں پوچھا میں ایک ایماندار آدمی ہوں،پیپلز پارٹی سنیٹر پلوشہ خان pic.twitter.com/ChVbw2kzC7
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) December 19, 2025
دوسری جانب وفاقی وزیر علیم خان نے کہا کہ جیسے ہمیں ٹریٹ کیا جائے گا ہم بھی ویسا ہی جواب دیں گے۔ اگر کوئی ذاتیات پر جائے گا تو ہم بھی جواب دیں گے، لیکن ہم اس سطح پر نہیں گرنا چاہتے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور ایوان میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی حلقوں میں اس واقعے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جب کہ سینیٹ اجلاس کی کارروائی ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا شکار ہو گئی۔







