اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی۔
تحریک کی پیشی کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا تاہم حکومت نے دو تہائی اکثریت ثابت کرتے ہوئے ترمیم منظور کرالی۔
27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک کی حمایت میں 234 اور مخالفت میں صرف چار ووٹ پڑے ہیں، جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں موجود تمام ابہام دور کردئیے گئے ہیں، جسٹس یحییٰ آفریدی بدستور چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے متعلق ابہام تھا جسے بار کونسلز کی نشاندہی کے بعد دور کر دیا گیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بارکونسل،ایسوسی ایشن کی مشاورت کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر کچھ ابہام تھا، یہ لکھا ہواتھا کہ جوموسٹ سنیئر ہوگا وہ کمیشن کو چیئرکرے گا، اس ابہام کو دور کرنے کیلئے کچھ ترامیم متعارف کراؤں گا۔
جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے جب کہ حکومتی بینچز پر 233 اراکین موجود ہیں اور حکومت کو ترمیم کیلیے224 اراکین کی حمایت درکار تھی۔
ایوان نے آئین کے آرٹیکل 93 میں ترمیم کے ذریعے وزیرِ اعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کی منظوری دی ہے۔اس ترمیم کے حق میں دو تہائی اکثریت سے ووٹ پڑے جس کے بعد اس کو منظور کر لیا گیا ہے۔
آرٹیکل 100 میں بھی ترمیم منظور کی گئی ہے، جس کے تحت لفظ سپریم کی جگہ اب وفاقی آئینی عدالت بھی شامل کیا گیا۔یہ ترمیم بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ترامیم کی تفصیلی فہرست ایوان کے سامنے پیش کی۔
وزیر قانون کے مطابق بل میں شق 2 کا نیا متبادل تجویز کیا گیا ہے، جب کہ آرٹیکل 6 میں ترمیم کے ذریعے لفظ “The” کے بعد “وفاقی آئینی عدالت،” کے الفاظ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں، آئین میں نئی شق 2A شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
ترمیمی بل میں آرٹیکل 10 کی وضاحت میں “سپریم کورٹ آف پاکستان” کے الفاظ شامل کرنے کی تجویز دی گئی، تاکہ آئینی تشریحات میں واضحیت پیدا کی جا سکے۔
اجلاس کے دوران بل سے شق 4 کے اخراج کی تحریک بھی پیش کی گئی، جبکہ شق 19 کے حذف کیے جانے کی سفارش منظور کی گئی۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 176 میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، جس کے مطابق لفظ “انصاف” کے بعد “سپریم کورٹ” کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔
وزیر قانون نے واضح کیا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت موجودہ چیف جسٹس اپنی مدتِ ملازمت کے دوران “چیف جسٹس آف پاکستان” ہی رہیں گے۔
نئی ذیلی شق کے تحت “چیف جسٹس آف پاکستان” کی تعریف میں تبدیلی کی گئی ہے اور مجوزہ تعریف کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان وہ جج ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں سے زیادہ سینئر ہو۔
شق وار منظوری کے دوران ایوان نے آرٹیکل 6 کے شق 2 اے میں ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی، 233اراکین نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جب کہ چار نے مخالفت کی۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 6کی شق ٹو اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کرنے کی منظوری دیدی۔
27 ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ چیف جسٹس ہی چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے اور صدر مملکت، آڈیٹر جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کا حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے، ساتھ ہی موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئینی عدالت، سپریم کورٹ کے سینئر جج چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔
ترمیم کے بعد اب سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار ختم ہو گیا جس کے اب ازخود نوٹس کے اختیارات آئینی عدالت کے سپرد کرنے کی ترمیم منظور ہو چکی ہے۔
آرٹیکل 184 کو ائین پاکستان سے حذف کرنے کی ترمیم منظور بھی کر لی
27ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کو جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ٹرانسفر کرنے کے مجاز ہوں گے، ہائی کورٹ سے ججز تبادلے پر متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہوں گے۔
27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا،ایسے کسی جج کا تبادلہ نہیں ہوگا جو سنیارٹی پر اثر ہو کر چیف جسٹس سے سنئیرہو۔
ترمیم کے تحت ٹرانسفر ہونے والا جج دوسری عدالت کے چیف جسٹس سے سئینر نہیں ہوگا، ٹرانسفر سے انکار پر جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس فائل ہوگا۔
سپریم جوڈیشل کمیشن کونسل 30 دن میں متعلقہ جج کے خلاف ریفرنس پر فیصلہ کرے گی اور سپریم جوڈیشل کونسل سے فیصلے تک متعلقہ جج ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکے گا۔
ریٹائرمنٹ کی صورت میں مقررہ مدت تک کی پنشن اور مراعات دینے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئ ہے۔
آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار پر متعلقہ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوگا۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں متعلقہ جج کو رسائی دی جائے گی اور سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئ ہے۔
27 ویں ترمیم کے بعد آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کونسل کے رکن ہوں گے اور وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے 2 سئنیر ججز جوڈیشل کونسل کے رکن ہوں گے اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے دو سئینر ججز بھی جوڈیشل کونسل کے رکن ہوں گے۔







