سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان سے وابستہ تنظیمیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان شامل ہیں، انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں کرتیں۔
وزیر دفاع کے مطابق ماضی میں مساجد کے نمازیوں، اسکولوں کے طلبہ اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے دہائیوں تک پاکستان سے فائدہ اٹھایا، ان میں وفاداری کا فقدان رہا ہے۔
کابل میں طالبان حکمرانوں نے شہری آبادیوں میں اپنے اڈے اور کیمپ بناۓ ھیں۔ عام شہریوں کو ھیومن شیلڈ کے طور استعمال کیا جاتا ھے ۔ طالبان کی دونوں فرنچائز TTPاورTTAکے نزدیک انسانی جانوں کی کوئ اھمیت نہیں۔ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے بھول گئے ھیں مسجدوں کے نمازی سکولوں کے طالب علم بچے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 18, 2026
خواجہ آصف نے اس صورتحال کو پاکستان کی ماضی کی پالیسیوں کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور تمام معاملات کا مکمل احتساب کیا جائے گا۔







