ملتان میں ٹائمز یونیورسٹی کے کانووکیشن 2025ء سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آبادی کے تناسب سے گزشتہ دو دہائیوں سے تعلیم سے محروم بچوں کے اعداد و شمار تقریباً وہی ہیں، تاہم موجودہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ تعلیم کے شعبے کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے ہیں اور تعلیمی بجٹ 17 ارب روپے سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے اپنے طلبا پر فی کس دس ہزار سے ساٹھ ہزار روپے ہفتہ وار خرچ کرتے ہیں، جب کہ سرکاری اداروں میں جہاں 97 فیصد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں سالانہ فی کس صرف پچیس سے تیس ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبا نجی اداروں کے طلبا سے کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔
لازمی پڑھیں: 2025 میں پنجاب پولیس تحفظ مراکز کی کارکردگی رپورٹ جاری، کیا کچھ کیا گیا؟
ملک احمد خان نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ تعلیمی مساوات کے فروغ کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائیں تاکہ سرکاری اور نجی تعلیمی نظام کے درمیان فرق کم کیا جا سکے۔
ڈگری حاصل کرنے والے طلبا و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اور آج اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ ملکی ترقی کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کریں۔
قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فارغ التحصیل طلبا و طالبات میں ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر اختر ملک، شیخ طاہر رشید، عبدالغفار ڈوگر، جاوید انصاری، شہر کے عمائدین سردار مظفر محمود سیال، چوہدری ذوالفقار انجم، سرفراز مظفر، محمد اسلم شاد سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔







