کراچی میں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہر پاکستانی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رضا ربانی نے یہ کتاب غزہ کے بچوں کے نام کی ہے، جو قابلِ تحسین عمل ہے، کیونکہ دنیا نے غزہ میں بچوں، صحافیوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی نسل کشی دیکھی ہے۔

سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کو اس بار متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ یہ جنگ بندی برقرار رہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ اسرائیل ایک بار پھر دھوکا دے سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تنقیدی انداز میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف کو خطاب کی دعوت دی تھی اور یقیناً یہ خطاب آپ سب کو بہت پسند آیا ہوگا۔

واضح رہے کہ انہوں نے رضا ربانی کی جمہوریت کی بحالی کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ کتاب لکھنے والے ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے بھی دو تین کتابیں تحریر کی تھیں اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو بھی کتاب لکھنے کی ترغیب دی تھی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے سینئر ترین رہنما ہیں، ان کے دور میں خیرپور اسپیشل اکنامک زون قائم کیا گیا، جسے فنانشل ٹائمز نے بہترین قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تصور پیش کیا، آج سندھ کا مقابلہ کسی پاکستانی صوبے سے نہیں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ خطوں سے کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس موسمی تبدیلی کا نقصان ہم اٹھا رہے ہیں اس میں ہمارا ہاتھ نہیں ہے۔ امیر ممالک انڈسٹریلائزیشن کی جنگ میں دنیا میں یہ موسمی تبدیلی لائے ہیں، ج بکہ پاکستان جس کا کاربن آؤٹ پٹ میں محض ایک فیصد حصہ ہے ۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس کے باجودموسمی تبدیلی کی وجہ سے دنیا کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ممالک ہمارا ملک سرفہرست ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ہم نے پچھلی حکومت میں لوس اینڈ ڈیمج فنڈ قائم کردیا تھا اور دنیا کو اس بات پر منوالیا تھا کہ یہ بھیک نہیں ہمارا حق ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری تھا، تاہم دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی ملاقاتوں کے بعد صورتحال میں نرمی آگئی۔

بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے رہنما اس سے قبل وفاقی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جائے۔ تاہم پنجاب حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کی خدمت کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، اور ہر مسئلے کا حل صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اگر اپنے حق کے لیے لڑے تو دوسروں کو کیا مسئلہ ہے