قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سال سے جاری جنگ کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی جانب سے امن اور مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والی سرگرمیوں کا وزارتِ دفاع کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے، جبکہ قطر، ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بھی دفاعی معاہدے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران میں جاری امن کی کوششیں ان معاہدوں سے الگ تھیں۔
خواجہ آصف کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ممکنہ کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ قومی اسمبلی میں اپنے کردار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی، کیونکہ وہاں ہونے والی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتی تھیں۔







