امریکی نیوز ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ کارروائی میں ایرانی قیادت، توانائی کے شعبے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی کا وقت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوسکتا ہے۔ تاہم، یہ ایک میڈیا رپورٹ میں بیان کردہ امکان ہے؛ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے اور اس کے وقت کی باضابطہ تصدیق سامنے آنے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایگزیوس کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر اور امریکی کمانڈر بریڈ کوپر کے درمیان بھی حملوں کی تیاری سے متعلق رابطہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں اس رابطے کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاریوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، تاہم مجوزہ حملوں کے حتمی فیصلے، اہداف اور عملی منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، پاکستان، قطر، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ اس سلسلے میں رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچ سکیں اور فوجی تصادم کے خطرات کم کیے جاسکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثالثی کی کوششوں کا ایک اہم پہلو ایران کو متاثرہ جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کرنا ہے۔ اس تجویز کا مقصد جوہری تنصیبات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور متعلقہ خدشات دور کرنے کے لیے معائنوں کی راہ ہموار کرنا بتایا گیا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق اس ممکنہ رسائی کے بدلے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس طرح سفارتی کوششوں میں جوہری تنصیبات کے معائنے اور پابندیوں میں ممکنہ ریلیف کو کسی مفاہمت کے اہم نکات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے یا طے شدہ شرائط کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں سے متعلق رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک طرف ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات برقرار ہیں، جبکہ دوسری جانب متعدد ممالک مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فی الحال ممکنہ حملوں کے حتمی فیصلے، ان کے آغاز کے وقت اور سفارتی مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں صورتحال واضح نہیں۔ ایگزیوس کی رپورٹ میں بیان کردہ فوجی منصوبے اور ثالثی کی کوششوں سے متعلق دعووں کو حتمی فیصلوں کے بجائے میڈیا رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔







