عبرانی زبان کے مقامی میڈیا کو دی گئی معلومات میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حالیہ انتخابات کا دن مجموعی طور پر پُرامن رہا اور انتخابی شفافیت سے متعلق غیر معمولی واقعات کی تعداد گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں بھی انتہائی کم رہی۔ پولیس کے اس بیان کو لیکوڈ پارٹی کے ان دعوؤں کے برعکس قرار دیا جارہا ہے جن میں عرب جماعتوں پر انتخابات میں دھاندلی کرنے اور انتخابی نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
پولیس ذرائع نے واضح کیا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو لیکوڈ پارٹی کے الزامات کی تصدیق کرسکے۔ اس سے قبل اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے ایک سینئر اہلکار نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کردیا تھا۔ حکام کے ان بیانات کے بعد عرب جماعتوں کے خلاف انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کی بنیاد پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
دوسری جانب انتخابات میں عرب کمیونٹی کی نمایاں شرکت بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جسے ان کی انتخابی کارکردگی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران خصوصی طریقہ کار کے تحت ڈالے گئے ووٹوں کے نتائج بھی سامنے آنے ہیں، جن کے بعد نشستوں کی حتمی صورتِ حال مزید واضح ہوسکے گی۔
رپورٹس کے مطابق لیکوڈ پارٹی کی جانب سے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب انتخابی نتائج کی گنتی جاری تھی۔ عبرانی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پولنگ سے پہلے ہی اس امکان پر غور کیا جارہا تھا کہ اگر نتن یاہو کی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو عرب اکثریتی علاقوں کے نتائج کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ انہی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ انتخابی شکایات اور نتائج کو متنازع قرار دینے سے متعلق مؤقف پہلے سے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کا کردار اور ان کی انتخابی نمائندگی ایک اہم موضوع رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں ان جماعتوں کی کامیابی اور عرب ووٹرز کی نمایاں شرکت کے بعد انتخابی نتائج پر سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔ تاہم پولیس اور مرکزی الیکشن کمیٹی کے حکام کے بیانات کے مطابق، لیکوڈ پارٹی کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کی حمایت میں تاحال شواہد سامنے نہیں آئے۔
خصوصی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور انتخابی نتائج کی حتمی توثیق کے بعد ہی نشستوں کی مجموعی تقسیم اور مختلف جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن واضح ہوگی۔ فی الحال پولیس کے بیان نے انتخابی دھاندلی سے متعلق الزامات اور ان کی قانونی و شواہدی بنیاد پر بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔







