مقدمے کا فیصلہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔ عدالتی حکم کے مطابق مختلف انفرادی دفعات کے تحت دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 13 سال قید کی سزائیں بنتی تھیں، تاہم دفعہ 182 کے تحت حاصل رعایت کے باعث انہیں 10، 10 سال قید بھگتنا ہوگی۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے مقدمے کے حق میں شواہد پیش کیے گئے۔ پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر 7 گواہ عدالت میں پیش کیے، جن پر جرح بھی کی گئی۔ مقدمے میں عدالت کی جانب سے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے گواہوں پر جرح کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ کیس میں دونوں ملزمان پر 7 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جس کے بعد مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔
عدالت نے مختلف دفعات کے تحت 50 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے۔ فیصلے کے مطابق سزا کا تعین متعلقہ قانونی دفعات اور دفعہ 182 کے تحت ملنے والی رعایت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد مقدمہ ایک اہم قانونی پیش رفت کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ تاہم سزا کے خلاف اپیل یا دیگر قانونی کارروائی سے متعلق کسی پیش رفت کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔







