قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر دہشت گردی اور خراب امن و امان کی صورتِ حال کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی بات کی جا رہی ہے تو بلوچستان میں بھی حالات خراب ہیں۔ اگر یہی اصول ہے تو وہاں بھی گورنر راج کے نفاذ پر غور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے کی آڑ میں معدنی ذخائر پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اب معدنیات کا معاملہ گورنر کی جانب سے بھی اٹھایا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر اپوزیشن نے مثبت ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کی سہولت فراہم کرنا شامل تھا۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق وزیراعظم نے ابتدا میں ان مطالبات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا، تاہم بعد میں صبح ساڑھے 10 بجے اسحاق ڈار نے انہیں آگاہ کیا کہ حکومت نے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ سیاست اور جمہوریت کا بنیادی اصول مذاکرات اور افہام و تفہیم ہے، لیکن اختلافِ رائے کرنے پر ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں انسدادِ اسموگ کریک ڈاؤن، 197 بھٹے مسمار، 354 صنعتی یونٹس سیل
انہوں نے کہا کہ ریاست کو ماں جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رہنے چاہییں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب تک انہیں کسی معاملے پر مکمل اطمینان نہ ہو، وہ تذبذب کی حالت میں کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتے۔ اگر سیاسی ساتھیوں کو احترام نہیں دیا جائے گا تو عوام سے احترام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔







