خط پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کے نام درج ہیں۔
خط کے متن کے مطابق رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان گزشتہ تین سال اور آٹھ ماہ سے شدید سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں کا شکار ہے، اور ایسے حالات میں ہر محب وطن شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے بارے میں سوچے اور پُرامن ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ہر سطح پر گفت و شنید ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، اور صرف مذاکرات ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں۔
قید رہنماؤں کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے تحریک تحفظ آئین کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ قومی جماعتوں سے مشاورت کے ذریعے کوئی قابلِ قبول حل نکالے، جبکہ وسیع تر مشاورت کو درحقیقت مذاکرات کے دروازے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خط میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں قوم کی رہنمائی کریں گے۔خط کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس عمل کے تحت کی جانے والی تمام سنجیدہ کوششیں ملک میں سیاسی استحکام اور آئینی عمل کی بحالی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
یاد رہے آج ہی انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی کے جلا ئو گھیرا ئوکے ایک اور اہم مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے ،عدالت نے کلب چوک جی او آر گیٹ حملہ کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد،میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس،دس سال قید کی سزا سنا دی جبکہ شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کر دیاہے ،عدالت نے مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سینٹرل کوٹ لکھپت لاہور میں فیصلہ سنایا







