نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ چار روز کے لیے کیا گیا ہے۔ اس دوران شہر میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد رہے گی۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفلیشن میں کہا گیا ہے موجودہ صورتحال میں حساس اور اہم تنصیبات کے قریب پر تشدد کاروائیوں کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ کے نام سے 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی گئی تھی، جس کے بعد جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

تحریکِ لبیک پاکستان کے اسلام آباد میں احتجاج کے اعلان کے بعد وفاقی پولیس کی تمام نفری کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ تمام اعلیٰ افسران کو آپریشن ڈویژن میں تعینات فورس کو الرٹ رہنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلام آباد کے مختلف تھانوں کی حدود میں مذہبی جماعت کے کارکنان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر کارکنان کو حراست میں لے کر تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے ساتھ واقع جڑواں شہر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے فیض آباد کے قریب تمام ہوٹل خالی کروا لیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مجسٹریٹ کی جانب سے گزشتہ شب مختلف ہوٹلوں کو آج صبح سات بجے تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جب کہ ضلعی انتظامیہ نے ہوٹل مالکان کو 12 اکتوبر تک ہوٹل بند رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

راولپنڈی کے سی پی او خالد ہمدانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کو بھی سڑک بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سی پی او راولپنڈی کا مزید کہنا تھا کہ معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ احتجاج کی آڑ میں کسی پرتشدد کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔