تفصیلات کے مطابق ملک کے بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہا۔ تمام موٹرویز، جی ٹی روڈ، رنگ روڈز اور دیگر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھلی رہیں جبکہ کہیں بھی آمدورفت میں تعطل کی اطلاع نہیں ملی۔
تمام دفاتر، تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز، سبزی منڈیاں اور مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر چوکس رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کی مذہبی سیاسی جماعت پر پابندی کی سفارش، گزشتہ نو سالوں میں احتجاجات کے دوران 11 پولیس اہلکار شہید، 1648 زخمی ہوئے
علماء کرام اور مشائخ کی اکثریت نے عوام سے پرامن رہنے اور شرپسند عناصر سے دور رہنے کی اپیل کی۔
مزید یہ کہ وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک کے کسی بھی حصے میں کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ٹی ایل پی کی ہڑتال کی کال کی ناکامی نے سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے، جہاں ایک طرف مبصرین عوام کے سیاست کی بھینٹ نہ چڑھنے کے فیصلے کی داد دے رہے ہیں تو دوسری جانب کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعت کی ہڑتال کی کال ناکام نہیں ہوئی بلکہ ریاست نے حالات اتنے کٹھن بنادیے کہ عوام کے لیے ہڑتال کرنا ناممکن ہوگیا، جب لوگوں کی جان جانے کا ڈر ہوتو کون ہوگا جو احتجاج یا پھر ہڑتال کرے گا۔
پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار سید امجد حسین بخاری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے آج ہونے والے احتجاج کی ناکامی کی تین بڑی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ٹی ایل پی کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور انہیں نکلنے نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی ناکامی کی دوسری اور بڑی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو تاجر برادری ہے، انہوں نے اپنا کاروبار چلانا ہوتا ہے، اس لیے وہ حکومت کے مخالف نہیں جاسکتی۔ تیسری اہم وجہ یہ تھی کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دو تین دنوں میں مفتی منیب سمیت علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں اور ان سے بات چیت کی، جس کی وجہ سے معاملات ٹھنڈے پڑ گئے اور ٹی ایل پی کا احتجاج ناکام ہوگیا۔







