نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات کے ملازم نے محبت کا اظہار کرکے نوجوان کو برگر میں بے ہوشی کی دوا کھلا کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس دوران نازیبا ویڈیو ریکارڈ کر کے اُسے بلیک میل کرکے ہزاروں روپے موبائل نمبر منگوائے۔
پولیس اہلکار کی بلیک میلنگ سے تنگ آکر نوجوان نے نیوٹاون پولیس سے رجوع کرلیا پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کی نجی کمپنی میں ملازمت کرنے والے نوجوان نے نیوٹاون پولیس کو مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ سینٹرل جیل نشتر ملتان میں تعینات جیل پولیس اہلکار ٹک ٹاک پر مسلسل دوستی کے لیے مجبور کرتا رہا۔
مزید پڑھیں: دہشتگردوں کی سرپرستی نامنظور، پاکستان نے افغانستان کو حتمی مؤقف پیش کردیا
نوجوان کے مطابق پولیس اہلکار نے اپنی نجی زندگی اور طلاق وغیرہ کا بتا کر کہا تم اچھے لگے ہو دوستی کرنا چاہتا ہوں چھ ماہ تک دن میں متعدد مرتبہ رابطہ کرتا اور ملتان آنے کی دعوت دیتا، انکار پر کچھ عرصہ رابطہ ختم کردیا پھر واٹس ایپ پر پیغامات بھیجنے شروع کردیے۔







