کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں سب سے زیادہ مشکلات عام شہری اور تنخواہ دار طبقہ برداشت کر رہا ہے، تاہم حالیہ بجٹ میں نجی شعبے کے ملازمین کے لیے کوئی واضح ریلیف نظر نہیں آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا مقابلہ کرسکیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر پر کم از کم تین سال کے لیے مقرر کی جائے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو استحکام مل سکے، مسلسل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے عام آدمی اور معیشت دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود سودی نظام کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں عوام کے لیے کوئی بڑی تبدیلی یا نئی معاشی حکمت عملی نظر نہیں آتی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا، لیکن مہنگائی کی شرح اس سے زیادہ رہی، جس کے باعث عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف نہیں مل سکا۔
حافظ نعیم الرحمان نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ٹیلی کمیونیکیشن بل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین عوامی آزادیوں اور بنیادی حقوق کو متاثر کرسکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ میں طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اندرون سندھ کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کیوں درپیش ہیں اور سرکاری صحت مراکز کی صورتحال بہتر کیوں نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں مؤثر سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے، جبکہ شہری روزمرہ سفری مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، عوامی مسائل کے حل کے لیے دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ وہاں ارکان کی خرید و فروخت کے معاملات میں عوام کے ٹیکس کے پیسے استعمال ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر اضافی مالی دباؤ ختم کرے، لیوی کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پٹرولیم قیمتوں میں کمی عوامی دباؤ کا نتیجہ، قیمت کو مزید کم کرکے 225 روپے فی لیٹر پر لایا جائے: حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بجٹ میں بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے معاملات کے حل کے لیے واضح اقدامات سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں تاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔
آئی ایم ایف پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ عوام پر براہ راست بوجھ ڈالنے والی معاشی پالیسیاں مسائل میں اضافہ کرتی ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ معاشی فیصلوں میں عام آدمی کو ترجیح دی جائے، مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور روزگار، تعلیم، صحت اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔







