نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق جسٹس صداقت خان نے پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ یہ مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کیا گیا تھا جس میں مرزا پر قابلِ احترام مذہبی شخصیات کی توہین کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مرزا کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری ہوا ہے۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا کوئی فتویٰ موجود ہے تو اسے ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائے، کیونکہ ہائی کورٹ صرف ضمانت سے متعلق قانونی نکات کا جائزہ لے رہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ تفتیش، شہادتیں اور مذہبی فتووں کی حیثیت کا تعین ٹرائل کورٹ کا دائرہ اختیار ہے۔ دوسری جانب انجینئر محمد علی مرزا نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک علیحدہ درخواست بھی دائر کی ہے جس میں ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی اے نے انہیں کوئی نوٹس جاری کیے بغیر تفتیش شروع کی اور ایک سوشل میڈیا ویڈیو کو فتویٰ حاصل کرنے کے لیے پنجاب قرآن بورڈ کو بھیجا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قرآن بورڈ نے ایک پرانی ویڈیو کی بنیاد پر رائے دی، حالانکہ بورڈ کے پاس کسی قسم کا مذہبی فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری صرف قرآن کی طباعت کی نگرانی تک محدود ہے۔
مرزا نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے خلاف جاری فتویٰ کو کالعدم قرار دیا جائے اور ایف آئی اے کی تفتیش ختم کی جائے۔
مرزا کو اگست میں جڑانوالہ پولیس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا تھا، بعدازاں انہیں جیل منتقل کیا گیا اور پھر مقدمہ درج ہونے پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔
ایف آئی آر جہلم سٹی تھانے میں درج کی گئی جس میں الزام ہے کہ محمد علی مرزا کے یوٹیوب سے اپ لوڈ ہونے والی ایک ویڈیومیں توہینِ رسالت ﷺ اور سورۃ النساء کی غلط تعبیر موجود ہے۔
مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-C (توہینِ رسالت ﷺ، جس کی سزا موت ہے) اور پیکا 2016 کی دفعہ 11 شامل ہیں، جو مذہبی منافرت پھیلانے پر سات سال قید اور جرمانے کی سزا تجویز کرتی ہے۔
خیال رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کے یوٹیوب پر 30 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور وہ جہلم میں قائم قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے سربراہ ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ادارے کی عمارت کو سیل کر دیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔







