ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے بتایا کہ ترک صدر کی جانب سے عمران خان کے لیے ترکیہ آنے کی آفر ایک سنجیدہ سفارتی پیش رفت تھی، جس کا مقصد پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے حل کی راہ ہموار کرنا تھا، ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا آیا ہے اور صدر اردوان ذاتی طور پر بھی پاکستان کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا دعویٰ
ان کے مطابق، پاکستان کو درپیش بڑے مسائل، بالخصوص دہشت گردی میں اضافہ اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، فوری توجہ کے متقاضی ہیں، اور ان مسائل کا حل سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، ملک میں سیاسی تصفیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ریاستی معاملات کو درست سمت میں ڈالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہوتی اور ماضی میں بھی بظاہر ناممکن فیصلے ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی سے متعلق ایک فیصلہ بھی ہوا تھا، تاہم ان کے بقول عمران خان کے بعض قریبی ساتھیوں کی نادانستہ حکمتِ عملی اور اندرونی اختلافات کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت معاملے کو سنجیدگی سے ہینڈل کیا جاتا تو شاید ملک آج ایک مختلف صورتحال میں ہوتا، سیاسی کشیدگی کم کرنے اور قومی مفاہمت کے لیے ایسے مواقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ترک صدر کی جانب سے عمران خان کو دی گئی پیشکش اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات خطے اور عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی قوتیں باہمی مکالمے اور مفاہمت کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف سیاسی بحران بلکہ سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنا بھی نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔







