اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام بچوں کے غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ ٹرمپ نے بڑی رعونت کے ساتھ اپنے من پسند نکات میں حماس کو ہتھیار ڈالنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن حماس نے وقار اور بہترین سفارتکاری کے ساتھ ایسا جواب دیا کہ امریکا اور اسرائیل کو قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر امن کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ ہمیشہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اب امتحان خود ٹرمپ کا ہے جو خود کو امن کے انعام کے لیے نامزد کروا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی دباؤ کے بجائے فلسطین کے مؤقف پر ڈٹ جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ریاست صرف ایک ہے اور وہ فلسطین کی آزاد ریاست ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں بچوں اور نوجوانوں کو فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جاری رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ فلسطین کی آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔







