اسلام آباد میں پیپلز سیکریٹریٹ میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر شہادت اعوان اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پارٹی کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے بعض سیاسی حلقے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی وزراء کی جانب سے انتخابات کے قریب ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور سرکاری وسائل کا استعمال انتخابی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کے مترادف ہے، جس کا الیکشن کمیشن کو فوری نوٹس لینا چاہیے، گلگت بلتستان کے انتخابات نہایت اہم ہیں اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت اور حقوق دلانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی کردار رہا ہے،  عوام اس وقت مہنگی بجلی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ خود اپنے وسائل سے سولر سسٹمز لگا کر بجلی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رہنما پیپلز پارٹی  نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے اعلانات اور منصوبے دراصل پری پول رگنگ کے زمرے میں آتے ہیں، انتخابی فہرستوں میں ردوبدل، سرکاری افسران کے تبادلے اور سرکاری مشینری کا مبینہ استعمال بھی تشویش ناک ہے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ماضی میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں کو گلگت بلتستان کی ترقی کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا حساب دینا چاہیے، صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت دینے میں کردار ادا کیا، جبکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر جیسے نظام کا خاتمہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی نمائندگی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے، آئینی ترامیم آرڈیننس کے ذریعے نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے سے ہونی چاہئیں جبکہ این ایف سی ایوارڈ پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں پانی کا بحران، جماعتِ اسلامی نے جمعہ کو شہر بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا

رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں، دعویٰ کیا کہ آصفہ بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے سیاسی مخالفین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں پنجاب پولیس کی موجودگی اور وفاقی و صوبائی وزراء کی انتخابی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ممکن ہو سکیں۔