پریس ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سموگ اور آلودگی کے تدارک کے لیے سخت اقدامات اسی لیے نافذ کیے ہیں تاکہ شہریوں کی صحت محفوظ رہے۔ آج ان قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ سن کر حیرت ہوئی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک گاڑی کا دھواں ہزاروں لوگوں کی سانسیں متاثر کرتا ہے اور یہی دھواں سموگ کی شکل اختیار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز حفاظتی اصول صرف لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے نافذ کر رہی ہیں۔ لاہور میں آج ہیلمٹ کے استعمال میں واضح اضافہ ہوا ہے، عوام نے بھی خود اس تبدیلی کو محسوس کیا ہوگا۔ دو شیشوں (سائیڈ مررز) کی شرط کوئی معمولی بات نہیں، یہ غلط مڑنے سے روکتی ہے اور حادثات کم کرتی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے پنجاب میں صفائی کے نظام کا ذکر کیا اور بتایا کہ پہلے مرحلے میں 150 بلین روپے کی لاگت سے بنیادی صفائی اور آپریشنل سسٹم کی بحالی مکمل کی گئی۔ اب دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے جس میں درستگی، افرادی قوت میں اضافہ اور نئی مشینری شامل کی جا رہی ہے تاکہ کارکردگی مزید بہتر ہو۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آنے سے پہلے صرف 6 شہروں میں صفائی ہوتی تھی، رورل ایریاز میں کوئی سسٹم موجود نہیں تھا اور لوگ کوڑا گلیوں اور نالوں میں پھینکنے پر مجبور تھے۔ آج پورے پنجاب میں منظم صفائی کا نظام موجود ہے، جس کا سہرا وزیراعلیٰ مریم نواز کے سر جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا اس وقت شدید عدم استحکام، تقسیم اور انتشار کا شکار ہے، جنوبی ایشیا کو نئے سرے سے سوچنے کا وقت آ گیا ہے، اسحاق ڈار
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال میں جتنا کام مریم نواز نے عوام کے لیے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ منصوبے اتنے ہیں کہ پریس ٹاک ختم ہو جاتی ہے، وقت ختم ہو جاتا ہے، لیکن فہرست ختم نہیں ہوتی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں کیونکہ یہ آپ کی اپنی جان کے تحفظ کا معاملہ ہے، اس میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔







