سفارتی اصطلاح میں "ٹریک ایک" سے مراد حکومتوں کے درمیان براہِ راست اور سرکاری مذاکرات ہوتے ہیں، جبکہ "ٹریک دو" میں سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے غیر رسمی سطح پر بات چیت کرتے ہیں۔ "ٹریک ون پوائنٹ فائیو " ان دونوں کے درمیان ایک ایسا ماڈل ہے جس میں سرکاری نمائندے اور غیر سرکاری شخصیات ایک ساتھ شریک ہوتی ہیں، تاہم ان کی گفتگو کسی باضابطہ حکومتی مؤقف یا معاہدے کی پابند نہیں ہوتی۔
دفترِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق کولمبو میں ہونے والے اس مکالمے میں دریائے سندھ کے پانی، فضائی حدود، بحران کے دوران رابطوں کے نظام اور مستقبل میں کشیدگی سے بچنے کے ممکنہ طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی وفد نے دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق انتظامات بحال کرنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے بدلے میں بھارت نے مبینہ طور پر مطالبہ کیا کہ پاکستانی فضائی حدود دوبارہ بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے کھول دی جائیں۔
یاد رہے کہ مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔
اس غیر رسمی مکالمے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے حاضر سروس حکام نے بھی شرکت کی، جو اس نوعیت کے مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمٰن اور صحافی نسیم زہرہ نے کی، جبکہ بھارتی وفد میں حکمران جماعت کے رہنما رام مادھو، سابق آرمی چیف جنرل منوج نرواڑے، سابق سفارت کار روچی گھنشیام اور وویک کاٹجو شامل تھے۔
یہ مکالمہ کولمبو میں جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں منعقد ہوا۔
اگرچہ اس ملاقات کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جب دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات تقریباً معطل ہوں، ایسے میں اس نوعیت کے رابطے مستقبل میں اعتماد سازی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔







