ڈان نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز پنجاب کابینہ کی ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش کی منظوری دی تھی۔ کابینہ کو ملک میں ٹی ایل پی کی پرتشدد سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 2016 سے اب تک یہ تنظیم پورے ملک میں شر انگیزی کرتی رہی ہے اور 2021 میں دی گئی ضمانتوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ ماضی میں اس کے احتجاجی مظاہروں میں سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ٹی ایل پی نے 10 اکتوبر کو غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور سے احتجاجی مارچ شروع کیا اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج کے دوران پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا، جبکہ تصادم میں پولیس افسر اور مذہبی جماعت کے کارکن سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ مظاہرین نے متعدد گاڑیاں جلائیں اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر پولیس نے کارروائی کی۔

وفاقی کابینہ نے اجلاس کے بعد متفقہ طور پر ٹی ایل پی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 11B(1) کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دی، تاہم حتمی فیصلے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دیا ہے۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ گرفتار مظاہرین سے پولیس پر حملہ کرنے کے لیے شیشے کی گولیاں، کیمیکلز، ڈنڈے اور اسلحہ برآمد ہوا، جو پرامن احتجاج نہیں کہا جا سکتا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے واضح کیا کہ کالعدم قرار دینے کا مقصد عوام اور ملک میں امن و امان کی بحالی ہے۔