اسلام آباد میں وفاقی وزرا عطا تارڑ اور سردار یوسف کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات لاہور سے نکلنے سے قبل شروع ہوئے اور آخری وقت تک جاری رہے۔ ٹی ایل پی کے اعلیٰ عہدیدار آپ کو خود بتائیں گے کہ وہ آپریشن کے دن ڈھائی بجے تک حکومتی ٹیم سے مذاکرات کر رہے تھے، ہم نے ہر مرتبہ انہیں واپس جانے کا کہا تاکہ صورتحال پرامن رہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کی مطالبات کی فہرست میں کئی خطرناک قیدیوں کی رہائی شامل تھی، قاتلوں اور دہشتگردوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو سوال یہ ہے کہ یہ احتجاج فلسطین کے لیے تھا یا ان مجرموں کے لیے؟

وزیرِداخلہ نے کہا کہ "لبیک یا رسول اللہ" کا نعرہ صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ سب کا ہے، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس نے انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ سڑکیں کلیئر کرائیں اور فورسز کے تمام اہلکار مبارکباد کے مستحق ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلح جتھے گھروں کی چھتوں اور مساجد کے میناروں پر پوزیشن لے کر براہ راست فائرنگ کر رہے تھے۔ ہم آج بھی پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہیں، لیکن کسی کو ہتھیاروں کے ساتھ احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی کی حمایت میں تقریر کرنے پر سابق رکن اسمبلی سیمابیہ طاہر کے خلاف مقدمہ درج

دوسری جانب اس موقع پر وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کا مقدمہ ہر عالمی فورم پر لڑا ہے۔ جب فلسطین میں جنگ بندی اور امن کی خبریں آ رہی تھیں، ٹی ایل پی نے یہاں فساد برپا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہر بین الاقوامی فورم پر فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھائی اور حالیہ دورے کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے پاکستانی عوام اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِاطلاعات نے کہا کہ جب دنیا بھر میں فلسطین کے لیے پرامن احتجاج ہوئے، پیرس، لندن، اٹلی، آسٹریلیا، کہیں ایک شیشہ نہیں ٹوٹا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر پاکستان میں ٹی ایل پی جدید اسلحے کے ساتھ سڑکوں پر نکلی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کے پاس خنجر، غلیلیں، ریوالور اور کلاشنکوفیں تھیں، شیخوپورہ کے ایس ایچ او کو گاڑی سے اتار کر 21 گولیاں ماری گئیں، کیا کسی نے سوچا کہ اس کا قصور کیا تھا؟

عطا تارڑ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے آئین کے دائرے میں رہ کر غزہ کے لیے بڑے احتجاج کیے۔ امن کو خراب کرنا، پولیس پر حملے کرنا اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی طور قابل قبول نہیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مذہبی جذبات کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لے۔