ڈھول کی تھاپ، قوالی کی مدھر آوازیں، بچوں کے قہقہے اور فیملیز کی بھرپور شرکت نے پونچھ ہاؤس کو دو روز تک حقیقی معنوں میں بسنت کے رنگوں سے سجا دیا۔ فیسٹیول کے دوران لاہور کا روایتی ماحول، میل جول اور خوشی ایک بار پھر دیکھنے میں آئی، جس نے شرکاء کو ماضی کی یادوں میں واپس پہنچا دیا۔

دو روزہ بسنت فیسٹیول کے پہلے دن کی تقریبات ڈی ایٹ ممالک کے سفیروں اور سفارتکاروں کے لیے مختص تھیں۔ اس موقع پر غیر ملکی مہمانوں کو لاہور کی قدیم ثقافت، روایات اور بسنت کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا گیا۔ سفارتکاروں نے ثقافتی پروگرامز سے بھرپور لطف اٹھایا اور پونچھ ہاؤس کی چھت پر منعقد کی گئی روایتی پتنگ بازی میں بھی شرکت کی۔ غیر ملکی مہمانوں نے بسنت کو لاہور کی ثقافت کا خوبصورت اظہار قرار دیتے ہوئے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

فیسٹیول کا دوسرا روز شہری فیملیز کے نام رہا، جس میں سرکاری افسران، بیوروکریٹس اور عام شہریوں کی فیملیز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پونچھ ہاؤس کی چھت پر منعقد پتنگ بازی کی سرگرمی میں شرکاء نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جبکہ رنگ برنگی پتنگوں نے آسمان کو ایک دلکش منظر میں تبدیل کر دیا۔

دو روزہ فیسٹیول کے دوران لائیو قوالی، ثقافتی پرفارمنسز اور موسیقی کے پروگرامز نے شرکاء کو محظوظ کیے۔ قوالی کی محفل نے بسنت کی خوشیوں کو مزید دوبالا کر دیا اور فیسٹیول کو روحانی اور ثقافتی رنگوں سے بھر دیا۔ اس کے علاوہ شرکاء کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات بھی کیے گئے تھے، جسے شہریوں نے خوب سراہا۔

میڈیا ایگزیکٹو ٹی ڈی سی پی تحریم قاضی نے پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو روزہ بسنت تقریبات کا مقصد نہ صرف غیر ملکی مہمانوں کو لاہور کی ثقافت سے روشناس کروانا تھا بلکہ شہریوں کو بھی محفوظ اور منظم انداز میں بسنت منانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے روز ڈی ایٹ ممالک کے سفیروں نے شرکت کی اور بسنت کی روایات کو بے حد سراہا، جبکہ دوسرے روز فیملیز نے فیسٹیول کی سرگرمیوں سے بھرپور لطف اٹھایا۔

تحریم قاضی نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران لائیو قوالی، میوزک شوز اور مختلف ثقافتی پرفارمنسز کا انعقاد کیا گیا تاکہ شہری طویل عرصے بعد بسنت کی خوشیوں کو ایک بار پھر محسوس کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ڈی سی پی کی کوشش ہے کہ بسنت جیسے ثقافتی تہوار کو محفوظ اور منظم انداز میں فروغ دیا جائے، تاکہ مستقبل میں یہ روایت صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب میں دوبارہ زندہ ہو سکے۔

انہوں نے شہریوں کے تعاون کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو آئندہ برس بسنت کی تقریبات کو مزید بڑے پیمانے پر منعقد کیا جا سکتا ہے

دوسری جانب منیجنگ ڈائریکٹر ٹی ڈی سی پی عاصم رضا نے کہا کہ حکومت پنجاب اور محکمہ سیاحت کا مقصد بسنت جیسے روایتی تہواروں کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ اور منظم انداز میں فروغ دینا ہے، تاکہ لاہور کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت فیسٹیول میں عوام اور سفارتکاروں کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ تہوار آج بھی شہریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کی بحالی نے لاہور کے باسیوں میں نئی توانائی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ لاہور کی ثقافت، خوشیوں اور روایتی میل جول کی علامت ہے، جس کی واپسی نے شہر کی رونقیں ایک بار پھر بحال کر دی ہیں۔