نجی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام نے جمعرات کو اس کی لاش لواحقین کے حوالے کی، جس کے بعد اگلی صبح اس کی باقیات آبائی گاؤں معیار جندول پہنچائی گئیں، جہاں مرکزی قبرستان میں اس کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

جنازے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جو سیکیورٹی فورسز کی اجازت سے کھلے عام ادا کی گئی۔ یہ اقدام غیر معمولی تھا کیونکہ عام طور پر ٹی ٹی پی کے سینئر رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق، تعزیتی اجتماعات مقامی رسم و رواج کے مطابق تین روز تک جاری رہیں گے۔

واضح رہے کہ قاری امجد، جس کا اصل نام امجد علی تھا، بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب باجوڑ میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں اپنے تین ساتھیوں سمیت مارے گیا تھا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق، قاری امجد ایک مقامی اسکول ٹیچر محمد صدیق اخونزادہ کے بیٹے تھے جو 2001 میں انتقال کر گئے۔

قاری امجد نے ابتدائی دینی تعلیم شانگلہ کے علاقے شاہ پور کے ایک مدرسے سے حاصل کی، جب کہ بعد ازاں کراچی میں مفتی کاکورس مکمل کیا۔

قاری امجد نے اپنے چھوٹے بھائی واجد علی کے ساتھ 2007 میں کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی۔ واجد 2010 میں ثمر باغ میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گیا۔

ٹی ٹی پی میں وہ مفتی مظہیم اور حضرت مفتی دیروجی کے ناموں سے معروف تھا۔اس نے نے 2007 میں خانپور ٹیکنی کی ایک خاتون سے شادی کی تھی۔اس کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

 بعد ازاں وہ افغانستان منتقل ہو گیا تھا، جہاں وہ کئی سال مقیم رہا۔ بڑا بیٹا (18 سالہ) اس وقت افغانستان کے ایک دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہے، جہاں اس کا خاندان اب بھی رہائش پذیر ہے۔

اس کے دو سوتیلے بھائی عبدالمجید اور محمد فاروق مایار جندول میں مقیم ہیں۔ عبدالمجید ایک اسکول ٹیچر ہیں۔

قاری امجد کے ٹی ٹی پی میں ابھرنے کے بعد ان کے دو ماموں محمد سلیم اور غلام ناصر اخونزادہ کو 2010 میں سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا اور کلیئر ہونے سے قبل 18 ماہ تک بلامبٹ اسکاؤٹس فورٹ میں قید رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق، افغانستان میں قیام کے دوران قاری امجد کو ٹی ٹی پی کے موجودہ سربراہ نور ولی محسود کا نائب مقرر کیا گیا۔

2022 میں امریکا نے ان پر سرحد پار حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا، جب کہ پاکستان نے اس کے سر پر 50 لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔

ٹی ٹی پی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں قاری امجد کے قتل کو خیانت قرار دیا، جب کہ پاکستانی حکام نے اسے درست انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ بتایا۔

بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، انہیں سرحد پار کے بجائے پاکستان کے اندر ہی مارا گیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق، گاؤں کے لوگ ان کے لیے خاص احترام رکھتے تھے کیونکہ ان کی موجودگی میں ٹی ٹی پی نے مایار گاؤں میں مداخلت نہیں کی، برخلاف دیگر علاقوں کے جہاں اغوا اور قتل کے واقعات عام تھے۔

ذرائع کے مطابق، وہ اسی مسجد کے نگران بھی تھے جہاں اس وقت اس کی فاتحہ جاری ہے۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری امجد کو پاکستان بلانے کے بہانے سے مارا گیا، کیونکہ وہ عام حالات میں ایک مشکل ہدف تھے۔

اس کی پہلی بیوی لوئر دیر کی رہائشی، جب کہ دوسری بیوی یمنی نژاد ہے۔ اس کا بڑا بیٹا شادی شدہ ہے اور افغانستان میں مقیم ہے۔