اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ فورم ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں چوری کو روکا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جون 2023 میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، تاہم حکومت نے مشکل فیصلے کر کے معیشت کو سنبھالا اور کرپشن سے متاثرہ اداروں کے خاتمے کی پالیسی اپنائی۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کرپشن کا منبع بن چکے تھے، جنہیں رمضان المبارک میں بند کیا گیا۔ مزید برآں تقریباً 200 ارب روپے کی بجلی چوری پر قابو پایا گیا اور بجلی کی قیمت میں سات روپے فی یونٹ کمی کی گئی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی کو بھی ختم کیا گیا، حالانکہ اس فیصلے کے خلاف شدید دباؤ موجود تھا۔

شہباز شریف کے مطابق ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور شرحِ سود 22 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مزید اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو مضبوط اور مستحکم معاشی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔