نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اوگرا کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافے کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے تقریباً 70 ارب روپے کا بوجھ حکومت پر منتقل کیا۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کے باعث عالمی معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم حکومت کی اولین ترجیح عام شہری کو ان اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے پہلے 24 ارب اور پھر 45 سے 50 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کیا۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ہائی اوکٹین کی قیمت میں اضافے سے حاصل ہونے والے تقریباً 9 ارب روپے اس خسارے کو کم کرنے اور عام صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔


انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی اوکٹین زیادہ تر لگژری گاڑیوں جیسے مرسڈیز، آڈی اور بی ایم ڈبلیو میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے صاحبِ حیثیت افراد اس اضافی بوجھ کو برداشت کر سکتے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت اہم اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین کے استعمال پر مکمل پابندی شامل ہے۔ اب اگر کوئی افسر ہائی اوکٹین استعمال کرے گا تو اسے اس کی ادائیگی خود کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے پٹرولیم بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، جب کہ کفایت شعاری کے تحت 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر گراؤنڈ کرنے اور تمام محکموں کے فیول کوٹہ میں 50 فیصد کمی کا حکم دیا گیا ہے۔

بلال اظہر کیانی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد قومی وسائل کو اشرافیہ کے بجائے براہِ راست عوامی ریلیف کی طرف منتقل کرنا ہے تاکہ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔