پیٹرولیم کے 3 بڑے کارگو آج پہنچیں گے جن کا مقصد ملک میں ایندھن کے ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے تک جا پہنچی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
معاشی تجزیہ کار فرحان شرمان کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی آمد سے فوری طور پر پینک یعنی عوامی خوف میں تو کمی آئے گی، لیکن طویل مدتی حل کے لیے پاکستان کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پر آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں، جس کی وجہ سے حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو بڑی رعایت دینے سے قاصر ہے۔ حکومت اب قیمتوں کا جائزہ 15 دن کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر لینے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو فوری مینیج کیا جا سکے۔ اگرچہ 3 جہازوں کی آمد ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن عالمی حالات اور ڈالر کی قدر کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری بڑی کمی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
یہ جو تیل خریدا گیا ہے، یہ بنیادی طور پہ عمان کے آئل ٹرمینل فجیرا سے آرہا ہے، یہ ریڈ سی میں ایک آئل ٹرمینل ہے وہاں سعودی عرب کی آرامکو سے خریدا جا رہا ہے۔
تنویر ملک کا کہنا ہے کہ ابنائے ہرمز تو بند پڑی ہے تو ایمرجنسی میں یہاں سے کارگو خریدا گیا ہے، یہ تقریباً کوئی 50 سے 70 ہزار ٹن کے قریب ہے، یہ بنیادی طور پر پاکستان میں جو انرجی سپلائی چین ہے اس کو مینٹین کیا جا سکے کیوں کہ قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور آبنائے ہرمز سے تیل پہنچ نہیں رہا۔
تنویر ملک کے مطابق اس وقت پاکستان 3 سورسز سے تیل خرید رہا ہے، جس میں سب سے زیادہ یو اے ای سے خریدتا ہے، پھر سعودی عرب سے خریدتا ہے اور پھر پاکستان اب پچھلے 7، 8 مہینے سے امریکا سے بھی کروڈ آئل خرید رہا ہے۔
تنویر ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریگولیٹری اور ریکوائرمنٹس کے مطابق کو کم از کم 20 سے 25 دن کا اسٹاک مینٹین کرنا ہوتا ہے تو اب فی الحال درست اعدادوشمار تو ہمیں نہیں معلوم لیکن پھر بھی یہ ابھی بھی کم ہی ہے کیوں کہ ابھی بھی آبنائے ہرمز میں کچھ ریفائنریوں کے جہاز رکے ہوئے ہیں۔







