گورنر ہاؤس کراچی کے باہر دھرنے کے 17ویں روز کراچی کے تاجروں کے نمائندہ کنونشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج کراچی کے تاجروں نے بھی فیصلہ دے دیا ہے کہ 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی اور یہ ہڑتال پورے ملک میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب صرف لیوی کا مسئلہ نہیں، بلکہ 75 آئی پی پیز کے معاہدے بھی ختم کرنے ہوں گے۔ ہم حکومت کو مزید آئی پی پیز سے معاہدے نہیں کرنے دیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ معیشت کے حب کراچی کے تاجروں کی جانب سے ہڑتال کی بھرپور حمایت کے اعلان پر ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات اور مراعات کم کرنی چاہئیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ وزیراعظم، وزیر پیٹرولیم، بیوروکریٹ یا کوئی اعلیٰ سول و فوجی افسر 1300 سی سی گاڑی میں سفر کرے گا تو کیا مر جائے گا؟ فری پیٹرول اور مفت بجلی ان لوگوں کو نہیں دینی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کا عام شہری مجبوری میں اپنی فیملی کو موٹر سائیکل پر لے کر جاتا ہے، جبکہ حکمران انہی موٹر سائیکل سواروں سے لیوی کے نام پر اربوں روپے وصول کر چکے ہیں۔ حکومت اب تک لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے 11 ارب روپے کا جہاز خرید کر 25 کروڑ عوام کے کلیجے پر مونگ دلی ہے، جبکہ دوسری جانب عام شہری مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ وہ ابھی صرف لیوی کی بات کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا اضافہ الگ دھندا ہے۔ پاکستان میں ریفائن پیٹرول کی قیمتیں بھی امپورٹڈ پیٹرول کے مطابق وصول کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافہ کرکے عوام کو بتایا گیا کہ قوم غلام ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برس سے تینوں بڑی جماعتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں لیکن کراچی کے لیے موٹر وے نہیں بنایا گیا۔ موجودہ حکومت کی سیٹنگ کاروں والوں کے ساتھ ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے عوام کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی، نادرا اور بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف مسائل جماعت اسلامی نے حل کروائے، جبکہ کے الیکٹرک مافیا اور بحریہ ٹاؤن کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتیں خاموش رہیں۔ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب ہر صوبے میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جا رہے ہیں، چترال میں بھی دھرنا دیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب اور سندھ کے اندرون شہروں میں بھی احتجاج جاری ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد صرف اور صرف عوام کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کو بے نقاب نہ کیا ہوتا تو عوام کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ کس طرح ان آئی پی پیز کو اربوں روپے سے نوازا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل کہا جاتا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی غلامی نہیں کریں گے، لیکن اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ملک میں آئی ایم ایف کا 24واں پروگرام چل رہا ہے۔

انہوں نے حکومتی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئیں، جماعت اسلامی انہیں بتائے گی کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کہاں سے ٹیکس وصول کیے جاسکتے ہیں۔

کراچی بند ہوگا تو پاکستان بند ہوگا: منعم ظفر خان

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ آج کا کنونشن کراچی کی پوری کاروباری برادری کا نمائندہ کنونشن ہے اور 3 ستمبر بروز جمعرات ہونے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کامیابی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی بند ہوگا تو پورا پاکستان بند ہوگا۔ کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنا عوامی جدوجہد اور زندگی کی علامت بن چکا ہے، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

تاجر کنونشن میں کراچی بھر کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں، مختلف تاجر تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداران نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے 3 ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

لیوی، ٹیکس اور بھتہ بہت بڑا مسئلہ ہے: عتیق میر

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے کہا کہ آج کے کنونشن میں کراچی کے تمام تاجروں کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ 3 ستمبر کو کراچی بند رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام تاجر جماعت اسلامی کی تحریک اور جدوجہد کے ساتھ ہیں۔ لیوی، ٹیکس اور بھتہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور کراچی سمیت پورا پاکستان اس وقت دلدل میں پھنس چکا ہے۔

عتیق میر نے حافظ نعیم الرحما ن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی قدم آگے نہ بڑھایا اور حافظ نعیم الرحمن کا ساتھ نہ دیا تو پھر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔

جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں عوامی مفاد کے لیے ہڑتال کررہی ہے: رضوان عرفان

کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا واضح مطالبہ ناجائز لیوی کا خاتمہ ہے۔ جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوامی مفادات کے لیے ہڑتال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کراچی سے خیبر تک عوام کی آواز بن گئے ہیں۔ ان کی اپیل پر کراچی کے تاجروں نے پہلے بھی ہڑتال کی تھی اور اس ہڑتال میں بھی تمام تاجر جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

رضوان عرفان نے کہا کہ حکومت کو جماعت اسلامی سے مذاکرات کرنے چاہئیں اور لیوی کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

تاجر کنونشن سے کراچی موبائل اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے منہاج گلفام، سندھ تاجر الائنس کے شریف میمن، کراچی سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن فدا، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن کے بابر خان اور دیگر نے خطاب کیا۔
تاجر رہنماؤں نے حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی کی پیٹرول لیوی، ٹیکس، بھتہ اور آئی پی پیز مافیا کے خلاف جدوجہد اور ملک بھر میں جاری عوامی دھرنوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے 3 ستمبر کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔

تاجر رہنماؤں نے واضح کیا کہ 3 ستمبر کو کراچی کی کوئی مارکیٹ اور بازار نہیں کھلے گا۔