اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شخص کی گرفتاری سے اس کے انسانی وقار کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے۔
عدالت نے درخواستیں نصرت بھٹو اور بیگم شمیم آفریدی کیسز میں دیے گئے فیصلوں کی روشنی میں قابلِ سماعت قرار دیں۔ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس خادم حسین سومرو نے سنایا۔
تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار قریبی رشتہ دار ہونے کے ناطے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت متاثرہ فریق کا درجہ رکھتے ہیں، جب کہ اپیلیں زیرِ التوا ہونے کے باوجود انتظامی اور دیگر اقدامات کے خلاف آئینی درخواستیں قابلِ سماعت ہیں۔
عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو بشریٰ بی بی سے عمران خان کی ملاقات کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے جیل قوانین کے مطابق عمران خان کی اہلِ خانہ سے ملاقات بھی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کروائی جائے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر عمران خان کی آڈیو ریکارڈ کرکے اس کا غلط استعمال کیا گیا تو یہ سہولت واپس لی جاسکتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سابق وزیراعظم کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے اور جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ طبی تشخیص اور اسپتال منتقلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اس حوالے سے کوئی متوازی حکم جاری نہیں کیا جا رہا۔
عدالت نے جیل انتظامیہ اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹس میں عمران خان کے ذہنی و جسمانی تناؤ اور غیر معمولی تنہائی کی تصدیق ہوتی ہے۔ میڈیکل بورڈ نے عمران خان کا بلڈ پریشر اور انزائٹی کنٹرول کرنے کے لیے قریبی اہلِ خانہ سے ملاقاتوں اور مطالعے کی سفارش بھی کی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان کے جیل قوانین اور پریزنز ایکٹ کے تحت سکیورٹی مقاصد کے لیے قیدی کو علیحدہ رکھنا جائز ہے، تاہم اسے مکمل سماجی تنہائی میں نہیں رکھا جاسکتا۔
اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ کے مطابق عمران خان 7 سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن کے وقت نقل و حرکت کے لیے آزاد ہیں، جب کہ انہیں کھانا پکانے اور دیکھ بھال کے لیے ایک اسیر مشقتی بھی فراہم کیا گیا ہے۔
جیل انتظامیہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باعث سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دیگر عام قیدیوں کو عمران خان کے کمپاؤنڈ تک رسائی نہیں دی جاتی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جیل ڈسپلن اور سکیورٹی کے اقدامات برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری سماجی محرومی کا خاتمہ کیا جائے۔
عدالت نے جیل حکام کو فیصلے میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے 15 روز میں عمل درآمد کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی کو جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔







