ریسکیو حکام کے مطابق آگ جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ کے ایگزاسٹ سسٹم میں لگی، جس کے بعد دھویں کے باعث وارڈ میں موجود مریضوں، تیمارداروں اور دیگر افراد کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیوں کے دوران 70 سے زائد افراد کو وارڈ سے بحفاظت باہر نکال لیا۔ اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا اور کچھ ہی دیر میں صورتحال پر قابو پالیا۔
حکام کے مطابق واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
آتشزدگی کے واقعے کے بعد اسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوگیا۔
واضح رہے کہ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات اس سے قبل بھی تشویش کا باعث بنتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے ایک افسوسناک واقعے میں نومولود بچوں کی اموات ہوئی تھیں، جس کے بعد اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد کئی خاندان غم سے نڈھال دکھائی دیے۔ نومولود بچوں کو کھونے والے والدین نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ تحقیقات اور کارروائی اپنی جگہ، لیکن اپنے بچوں کو کھونے کا دکھ ایسا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آتشزدگی: کب کیا ہوتا رہا، عینی شاہدین نے کیا دیکھا، دل دہلا دینے والا سانحہ چند منٹوں میں کیسے پیش آیا؟
لاہور جنرل اسپتال میں پیش آنے والے تازہ واقعے کے بعد بھی ماہرین کی جانب سے اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹ، دھویں کے اخراج کے نظام اور عملے کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
جنرل اسپتال کے گائنی یونٹ میں پنکھا گرم ہونے کے باعث دھواں اٹھنے کا واقعہ پیش آیا، تاہم اسپتال انتظامیہ اور عملے کی بروقت کارروائی کے باعث صورتحال کو چند ہی منٹوں میں قابو کرلیا گیا اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ واقعہ گائنی یونٹ کے ایک کمرے میں پیش آیا جہاں پنکھا ہیٹ اپ ہونے کے باعث دھواں اٹھا۔ صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اسپتال کے عملے نے ہنگامی اقدامات شروع کیے اور تقریباً 10 منٹ میں دھوئیں پر قابو پالیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین اور پروفیسر آف گائنی پروفیسر ڈاکٹر ندرت سہیل موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا خود جائزہ لیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ کمرے میں مجموعی طور پر صرف 4 بیڈز موجود تھے، جن میں سے 2 بیڈز پر مریض زیر علاج تھے جبکہ دیگر 2 بیڈز خالی تھے۔ عملے نے فوری طور پر دونوں مریضوں کو احتیاطی طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے 70 مریضوں کو ریسکیو کیے جانے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ حکام کے مطابق جس کمرے میں دھواں اٹھنے کا واقعہ پیش آیا وہاں 70 بیڈز تو درکنار، مجموعی طور پر صرف 4 بیڈز موجود تھے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں گزشتہ ایک ہفتے سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملے کی تربیت کا سلسلہ جاری تھا، جس کے باعث واقعے کے وقت عملے نے فوری اور مؤثر انداز میں کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹاف کو ضروری احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا جارہا ہے، اسی تربیت کی وجہ سے پنکھے سے دھواں اٹھنے کی اطلاع ملتے ہی صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول کرلیا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے واقعے کے دوران مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے والے سیکیورٹی گارڈ حامد کی کارکردگی کو بھی سراہا، سیکیورٹی گارڈ نے ذمہ داری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مریضوں کو بروقت محفوظ جگہ منتقل کیا۔
اسپتال انتظامیہ نے سیکیورٹی گارڈ حامد کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے نقد انعام اور تعریفی سند دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے ملازمین جو مشکل اور ہنگامی حالات میں اپنی ذمہ داری سے بڑھ کر خدمات انجام دیتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی دوسرے ملازمین کے لیے بھی مثبت مثال بنتی ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی حفاظت اسپتال انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال کے تمام شعبوں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے جبکہ بجلی کی تاروں، برقی آلات اور دیگر ممکنہ خطرات کی جانچ کے لیے 4 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسپتال کے مختلف شعبوں میں بجلی کے نظام اور حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور جہاں کہیں کسی قسم کی خرابی یا خطرے کی نشاندہی ہو، وہاں فوری طور پر ضروری اقدامات کیے جائیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام شعبوں میں حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ عملے کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری رہنمائی بھی فراہم کی جارہی ہے۔
واقعے کے بعد میڈیا نمائندوں نے بھی متاثرہ کمرے کا دورہ کیا اور وہاں موجود صورتحال کا جائزہ لیا۔ موقع پر موجود کمرے میں صرف 4 بیڈز موجود تھے، جس سے 70 مریضوں کو ریسکیو کیے جانے سے متعلق اطلاعات کی حقیقت بھی واضح ہوگئی۔
میڈیا نمائندوں نے اسپتال کے دیگر حصوں کا بھی جائزہ لیا جہاں طبی عملہ معمول کے مطابق مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال میں مصروف نظر آیا۔
اس موقع پر اسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین نے بھی انتظامیہ کی جانب سے بروقت کیے گئے اقدامات کو سراہا، واقعے کے بعد عملے نے فوری طور پر صورتحال کو سنبھالا اور مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں کسی مریض، ڈاکٹر، نرس یا دیگر عملے کے رکن کو نقصان نہیں پہنچا اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
اسپتال حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی واقعے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کیا جائے۔
جنرل اسپتال انتظامیہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مریضوں کو محفوظ اور بہتر طبی ماحول فراہم کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور تمام شعبوں میں سیفٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔







