امریکی میڈیا کے مطابق واقعہ پیر کی سہ پہر نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں سیونتھ ایونیو پر پیش آیا، جہاں دو چاقوؤں سے مسلح ایک خاتون نے راہ گیروں پر حملہ کیا۔

نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق پولیس کے کال سینٹر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 4 بج کر 24 منٹ پر متعدد 911 کالز موصول ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ ایک خاتون دو چاقوؤں کے ساتھ لوگوں پر حملہ کر رہی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق مشتبہ خاتون نے سب وے سے باہر آنے والے ایک 68 سالہ شخص کو نشانہ بنایا، جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ سڑک عبور کرنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک عینی شاہد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ خاتون نے سرخ ٹارگٹ بیگ سے دو چاقو نکالے اور زخمی شخص کی جانب بڑھیں۔

پولیس کمشنر کے مطابق خاتون نے چاقو سے 68 سالہ شخص کے پیٹ کے دائیں جانب وار کیا۔ زخمی شخص کو بیلیوو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

حملے کے بعد مشتبہ خاتون سیونتھ ایونیو پر 42ویں اسٹریٹ کی جانب بڑھیں، جہاں انہوں نے بینک آف امریکا کی ملازم ایرن پیاسینٹی پر حملہ کردیا۔ 32 سالہ خاتون کو بھی شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

بینک آف امریکا نے ایک بیان میں ایرن پیاسینٹی کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادارے کی ٹیم کی ایک قابلِ قدر رکن تھیں اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ بینک نے مقتولہ کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

جیسیکا ٹش کے مطابق حملے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مشتبہ خاتون کو ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور تقریباً چار منٹ تک ان سے بات چیت کی۔

پولیس کمشنر کے مطابق مشتبہ خاتون نے اہلکاروں سے کہا کہ وہ اپنے چاقو نہیں پھینکیں گی اور انہیں قتل کرنا پسند کریں گی۔ اس کے بعد خاتون نے پولیس اہلکاروں کی جانب چاقو لہرائے۔

پولیس نے خاتون کو قابو کرنے کے لیے ٹیزر استعمال کیے، تاہم یہ کوشش غیر مؤثر ثابت ہوئی اور مشتبہ حملہ آور پولیس اہلکاروں کی جانب بڑھتی رہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اہلکاروں نے خاتون پر فائرنگ کردی۔

مشتبہ خاتون کو بھی زخمی حالت میں بیلیوو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون کی شناخت کوئنز کی 49 سالہ پامیلا سِسنیروس کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق انہیں اس سے قبل کبھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا، تاہم نیویارک پولیس کے پاس ان کی ذہنی صحت سے متعلق سابقہ ریکارڈ موجود تھا، جس میں 2018 اور 2019 کے دو واقعات شامل ہیں۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی واقعے کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملے میں تین افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں بعد ازاں مقتولہ اور مشتبہ حملہ آور کی موت کی تصدیق ہوئی۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ٹائمز اسکوائر میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ علاقے میں موجود شہریوں اور سیاحوں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا۔

بوسٹن سے آنے والی ایک سیاح میلنڈا پوزون نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے گولیوں کی آواز سنی اور سڑک پر بڑی تعداد میں لوگوں کو موجود دیکھا۔

پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔