کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے 17ویں روز تاجر برادری کے رہنماؤں کے ہمراہ تاجر کنونشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے شہری مجبوری میں اپنی فیملی کو موٹر سائیکل پر لے کر جاتے ہیں، جب کہ حکمران ان موٹر سائیکل سواروں سے لیوی کے نام پر اربوں روپے وصول کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور حکمرانوں کو بڑی گاڑیوں کے بجائے چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنی چاہئیں، جبکہ انہیں مفت پیٹرول اور مفت بجلی بھی نہیں دی جانی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران انتخابات سے قبل کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کی غلامی نہیں کریں گے، لیکن جیسے ہی اقتدار میں آتے ہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام میں چلے جاتے ہیں۔ ملک میں آئی ایم ایف کا یہ 24واں پروگرام ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے 8 ہزار ارب روپے سے زائد رقم لیوی کے نام پر وصول کی ہے، ہم تو ابھی لیوی کی بات کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا اضافہ الگ دھندا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ریفائن کیے جانے والے پیٹرول کی قیمت بھی امپورٹڈ پیٹرول کے مطابق وصول کی جاتی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافہ کرکے عوام کو بتایا گیا کہ قوم غلام ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے 11 ارب روپے کا جہاز خریدنے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر حکمران اپنے لیے آسائشیں پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50 سال سے ملک میں تینوں بڑی جماعتیں اقتدار میں رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے اور موٹرویز کی مطلوبہ توسیع بھی نہیں ہوئی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی سیٹنگ کاروں والوں کے ساتھ ہے، تاہم اگر الیکٹرک گاڑیاں چلیں گی تو اس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی وزراء جماعت اسلامی کے پاس آئیں، انہیں بتایا جائے گا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کہاں سے ٹیکس وصول کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی، نادرا اور بحریہ ٹاؤن سمیت دیگر مسائل پر جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی اور مسائل حل کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک مافیا اور بحریہ ٹاؤن کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں بکی ہوئی تھیں، جبکہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھی احتجاج کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اب ہر صوبے میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔







