فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ججز آئین کا حلف اٹھاتے ہیں، وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتے، لیکن ان کے استعفے بھی سیاسی نوعیت کے ہیں اور وہ خود بھی انتہائی جانبدار رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ عدلیہ جب چاہتی تھی سوموٹو کے ذریعے وزیراعظم کو گھر بھیج دیتی تھی اور جب چاہتی تھی حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتی تھی۔ جس کو دل چاہے ہٹا دیں، جس کو چاہے لے آئیں، یہ ان کا کام نہیں۔

طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ججز کی تنخواہوں سے لے کر ہر فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، لیکن کچھ لوگوں نے پارلیمنٹ کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ اس کا کردار ایک میونسپل کارپوریشن جیسا بنا دیا گیا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی قسم کے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پنجاب میں الیکشن مشکل لگا تو بائیکاٹ کر دیا گیا، جب کہ خیبر پختونخوا میں الیکشن لڑا جا رہا ہے۔  سہیل آفریدی بحیثیت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھائیں۔

بات چیت کے دوران طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آسانی سے کامیابی حاصل کرے گی، کیونکہ تشدد کرنے والا سیاست نہیں کرتا، اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں ملک میں حقیقی ترقی ہوئی۔